
Learning to Silence Negative Self-Talk
Learning to Silence Negative Self-Talk What if the person speaking most harshly to you every day is not someone else, but you? I am not
میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور گھریلو لڑائ جھگڑے کی ایک بڑی وجہ
میرے پاس اکثر ایسے خواتین و حضرات کی کالز آتی ہیں یا وہ کسی ٹی وی پروگرام میں رابطہ کرتے ہیں کہ ان کی ازدواجی اور گھریلو زندگی اچھی نہیں گزررہی۔
پاکستان میں یہ مسئلہ اب گزشتہ صدی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
یہ قصہ پہلے تو گھر تک ہی رہتا تھا اور گھر کے بڑے اسے حل کردیا کرتے تھے، لیکن جب سے family union کمزور ہوئ ہے، تب سے میاں بیوی خود ہی اپنے جذباتی فیصلے کرلیتے ہیں اور یہ جذباتی فیصلے اکثر بہت ہی منفی ہوتے ہیں جس کے اثرات ان کی اولاد پر بہت بھیانک ہوتے ہیں۔
لیکن کیا آپ کو معلوم ہےکہ یہ سب کس لیے ہوتا ہے۔
اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں، البتہ میں اس ویڈیو میں صرف اس سبب پر بات کروں گا جو گھریلو ناچاقی کا سب سے بڑا سبب ہے… شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے پر توجہ نہ دینا۔
شوہر اور بیوی شادی کے بعد یہ سمجھنا شرو ع کردیتے ہیں کہ اب تویہ ہمارے ہوگئے، اب یہ کہاں جائیں گے۔
اس لیے شوہر ہو یا بیوی، وہ دوسروں پر یعنی اپنے گھر سے باہر کے لوگوں پر تو زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن اپنے شریک حیات پر توجہ بالکل نہیں دیتے۔
یقیناً میاں بیوی ایک ہی گھر میں ہوتے ہیں، وہ اس گھر کی چار دیواری ہی میں رہیں گے۔
اگرچہ وہ گھر چھوڑ کر نہیں جاتے مگر ذہنی اور جذباتی طور پر وہ اپنے گھر میں بھی نہیں ہوتے۔
بیویاں خاص کر house wives تو اپنے بچوں کی وجہ سے پھر بھی گھر میں رہتی ہیں، لیکن وہ ذہنی اور جذباتی طور پر اس چار دیواری میں نہیں ہوتیں۔
کیوں کہ وہ اپنے ہی مکان کی چار دیواری کے اندر خود کو قید میں تصور کررہی ہوتی ہیں۔
شوہر کا اپنی بیوی کو توجہ نہ دینا۔
یاد رکھیے، جیسے بیوی کی انسان ہونے کے ناتے غذا، لباس اور رہائش وغیرہ کی ضروریات ہوتی ہیں، ایسے ہی اس کی ضرورت ہے، شوہر کی توجہ۔
اور یہ بات بیویوں کو بھی سمجھنی چاہیے کہ محض شوہر کا لباس اور وقت پر کھانا پینا تیار کردینا کافی نہیں ہے، شوہر کو اپنی بیوی کی توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
سب سے آسان طریقہ یہ ہے دونوں میاں بیوی اپنے تئیں بیٹھ کر یہ طے کریں کہ وہ روزانہ کچھ وقت (تیس سے چالیس منٹ) ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں گے۔ اس دوران بچے بھی نہیں ہوں گے۔
صرف اور صرف ایک دوسرے کا حال چال پوچھیں گے… بس۔
ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کریں گے۔ ایک دوسرے کے والدین اور رشتے داروں کی طبعیت معلوم کریں گے۔
ایک دوسرے پر طنز پر تو بالکل نہیں کریں گے، چاہے کوئ بات کتنی ہی اختلافی ہو۔
اس طے شدہ وقت کو کاغذ پر لکھ کر گھر کے کسی نمایاں جگہ لگالیا جائے تو روزانہ یاد دہانی ہوتی رہے گی۔
اس وقت کو اتنا ہی ضروری سمجھئے جتنا کہ آپ کھانے پینے اور دفتر جانے کے وقت کو ضروری سمجھتے ہیں۔
ورنہ آپ کی ازدواجی زندگی رفتہ رفتہ پریشان سے پریشان تر ہوتی چلی جائے گی۔
#Mentalhealth #rTMS #DrImran #Depression #Anxiety #Stress #SocietyStress #SocietyPressure #MentalHealthIssues #MentalHealthPakistan

Learning to Silence Negative Self-Talk What if the person speaking most harshly to you every day is not someone else, but you? I am not

Karachi, Pakistan — September 2026:* Transformation International is pleased to announce a special opportunity for visitors to meet Dr. Imran Yousuf, Chairman of Transformation International, during Health

Dr. Imran Yousuf delivered an insightful and eye-opening session at Bahria College Karsaz. Raising Awareness About Social Media’s Impact on Student Mental Health The session

Dr. Imran Yousuf, Honorary Consul General of the Philippines, attended the 79th Independence Day Celebration of Pakistan, organized by the Diplomatic Business Club at Marriott
Dr. Imran Yousuf, Hon. Consul General of the Philippines and Founder of Transformation International Society, received the prestigious Pakistan Icon Award at the 79th Independence

Dr. Imran Yousuf attended the Pakistan Pre-Independence Day Celebration as the Guest of Honor, organized by the Department of Psychology, University of Karachi. The celebration